مرے نصیب پہ یہ ضرب

مرے نصیب پہ یہ ضرب کتنی کاری ہے
کہ تیری آنکھ مجھے دیکھنے سے عاری ہے

کسی کے ہجر نے بے کار کر دیا تھا مگر
کما رہا ہوں، بالآخر عیال داری ہے

اسی نے روک دیا چشمۂ محبت کو
مری طرف سے تو دریا ہنوز جاری ہے

میں زندگی سے تعلق نبھانا چاہتا ہوں
مگر یہ بانجھ حسینہ ہے اور کنواری ہے

وہ تین لفظ مری زیست کا اثاثہ تھے
یہ ایک لفظ،مری زندگی پہ بھاری ہے

میں مرنے والوں کو دیکھوں تو سوچتا ہوں یہی
اب اس کے بعد تو لگتا ہے اپنی باری ہے

ستم تو یہ ہے اسے دل بھی کہہ نہیں سکتا
وہ سرخ آتشہ یاقوت جو اناری ہے

کسے نصیب ہیں انجم وہ مرمریں بانہیں
کسے خبر ہے کہ وہ فیض کس پہ جاری ہے

منیر انجم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا