وقت کی آگ میں جل سکتا ہے

وقت کی آگ میں جل سکتا ہے
آدم زاد پگھل سکتا ہے

ایسی اس کے لمس کی حدت
ٹھنڈا پانی جل سکتا ہے

آج تمہارا وقت ہے لیکن
دیکھو وقت بدل سکتا ہے

میں شاعر ہوں میرا کیا ہے
غم شعروں میں ڈھل سکتا ہے

قسمت ساتھ ہو اندھے کے تو
سوئی میں دھاگہ ڈل سکتا ہے

خود کو پاس بٹھا کر پوچھا
ساتھ ہمارا چل سکتا ہے؟

شام کا منظر میری آنکھیں
شام کا منظر ڈھل سکتا ہے

لمحے کو تم کم مت سمجھو
لمحہ عمر نگل سکتا ہے

منیر انجم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے