گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں
آخری رات دسمبر کی تری یاد اور میں
۔
رقص و مستی میں نئے سال کی پہلی شب ہے
اور ہیں دست و گریباں مرا ہمزاد اور میں
۔
زرد شاخوں پہ جمی برف پگھلنے تک ہے
ذکر میرا ، مری شہرت مری روداد اور میں
۔
سوگ کے دن ہیں سو ہم بیٹھے ہیں (پھوڑی) ڈالے
یہ دسمبر کی اداسی , دل _ ناشاد اور میں
۔
خلد ویراں ہوئی آدم کے نکل جانے سے
پھر سے آباد کریں گے مرے اجداد اور میں

شاہ دل شمس

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا