کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

انسان صرف روٹی، پانی اور سانس سے زندہ نہیں رہتا، بلکہ وہ اُمید، آرزو اور خواب کے سہارے بھی زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔ خواب وہ روشنی ہیں جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں، وہ قوت ہیں جو شکست کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہیں اور وہ جذبہ ہیں جو ناممکن کو ممکن بنانے کی تحریک پیدا کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ "جس دن انسان خواب دیکھنا چھوڑ دے، اسی دن اس کی زندگی کی اصل حرارت ختم ہونے لگتی ہے۔”
خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو نیند میں دکھائی دیتے ہیں اور لاشعور کی دُنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں؛ یعنی مقاصد، خواہشات اور مستقبل کی اُمیدیں۔ انسانی تہذیب، سائنس، ادب، فلسفہ اور تمدن کی تاریخ دراصل انہی جاگتی آنکھوں کے خوابوں کی تاریخ ہے۔
مشہور فلسفی ارسطو نے کہا تھا:
"اُمید جاگتے ہوئے انسان کا خواب ہے۔”
یہ قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ خواب اور اُمید ایک دوسرے سے جُدا نہیں۔ جہاں اُمید زندہ ہو وہاں خواب بھی زندہ رہتے ہیں اور جہاں خواب باقی ہوں وہاں زندگی کی کشش برقرار رہتی ہے۔
انسانی شخصیت کی تشکیل میں خواب بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طالب علم ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا ہے، ایک شاعر اپنے لفظوں سے دلوں کو جیتنے کا خواب رکھتا ہے، ایک سائنس دان نئی دریافت کا خواب دیکھتا ہے اور ایک عام مزدور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجاتا ہے۔ یہی خواب اس کے روزمرہ کی مشقت کو معنی عطا کرتے ہیں۔
تاہم خوابوں کی اپنی حدود بھی ہیں۔ اگر خواب حقیقت سے بالکل کٹ جائیں اور ان کے ساتھ محنت، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی شامل نہ ہو تو وہ محض شیخ چلی بن جاتے ہیں۔ تھامس ایڈیسن کا قول ہے:
"کامیابی ایک فیصد الہام اور ننانوے فیصد محنت کا نتیجہ ہے۔”
اس لیے خواب صرف خواہش کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا بھی نام ہیں۔ وہ انسان سے قربانی، صبر اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں۔
فلسفی فریڈرک نطشے نے کہا تھا:
"جس انسان کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، وہ ہر طرح کا دُکھ برداشت کر سکتا ہے۔”
جب انسان کے سامنے کوئی مقصد موجود ہو تو وہ بیماری، غربت، محرومی اور ناکامی جیسے سخت حالات میں بھی ہمت نہیں ہارتا۔ تاریخ میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں انسانوں نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود اپنے خوابوں کی طاقت سے دُنیا بدل دی۔
شاعری میں بھی خواب کو زندگی کا استعارہ بنایا گیا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:
"نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کِشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”
یہ شعر اس یقین کی ترجمانی کرتا ہے کہ حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، امید اور خواب باقی رہیں تو نئی زندگی جنم لے سکتی ہے۔
اسی طرح اقبال کا یہ معروف شعر بھی خواب کی قوت کو ظاہر کرتا ہے:
"ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”
یہ شعر انسان کو مسلسل آگے بڑھنے، نئے خواب دیکھنے اور نئی منزلیں تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
فیض احمد فیض نے بھی امید کو زندہ رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا:
"دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے”
یہ شعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ناکامی خوابوں کا اختتام نہیں بلکہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا خواب ہر حال میں انسان کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتے ہیں؟ اس کا جواب صرف ہاں یا ناں میں نہیں دیا جا سکتا۔ سچی بات یہ کہ حقیقت پسندانہ خواب انسان کو زندہ رکھتے ہیں، لیکن غیر حقیقی اور ناممکن توقعات بعض اوقات مایوسی کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ جب انسان بغیر محنت کے بڑی کامیابی چاہے یا اپنی صلاحیتوں کا درست اندازہ نہ لگائے تو خواب ٹوٹنے پر اس کی ہمت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواب اُمید اور حقیقت کے درمیان متوازن ہوں۔
نفسیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ جن لوگوں کی زندگی میں کوئی واضح مقصد ہوتا ہے وہ ذہنی دباؤ، ناکامی اور مشکلات کا بہتر مقابلہ کرتے ہیں۔ مقصد اور خواب انسان کے اندر لچک (Resilience) پیدا کرتے ہیں، جس کے ذریعے وہ بار بار گِر کر بھی دوبارہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
خواب اور خواہش کا تعلق بھی گہرا ہے۔ ہر خواہش خواب نہیں بنتی، لیکن ہر بڑا خواب کسی نہ کسی خواہش سے جنم لیتا ہے۔ خواہش اگر صرف ذاتی مفاد تک محدود رہے تو اس کی عمر کم ہوتی ہے لیکن جب وہ انسانیت، علم، خدمت یا اعلیٰ اقدار سے منسلک ہوجائے تو وہ خواب تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عظیم رہنما، سائنس دان، شاعر اور مصلح اپنے ذاتی فائدے سے بڑھ کر اجتماعی خواب دیکھتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات بھی امید اور حُسنِ ظن کی تلقین کرتی ہیں۔ کسی بھی سطح پر مایوسی کو پسندیدہ رویہ نہیں سمجھا گیا، کیونکہ مایوسی انسان کی قوتِ عمل کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ امید اسے نئے امکانات تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر خواب پورا نہیں ہوتا، لیکن ہر خواب انسان کو کچھ نہ کچھ ضرور سکھا جاتا ہے۔ بعض خواب کامیابی دیتے ہیں اور بعض بصیرت بعض منزل تک پہنچا دیتے ہیں اور بعض راستہ دکھا دیتے ہیں۔ اس لیے خوابوں کی اصل اہمیت صرف ان کے پورا ہونے میں نہیں بلکہ اس سفر میں ہے جو وہ انسان سے طے کرواتے ہیں۔
مختصر یہ کہ خواب زندگی کی سانس ہیں۔ خواب انسان کو صرف مستقبل کا نقشہ نہیں دیتے بلکہ حال کی مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ بھی عطا کرتے ہیں۔ البتہ خوابوں کے ساتھ حقیقت پسندی، محنت، صبر اور مستقل مزاجی کا ہونا ضروری ہے۔ خواب اگر عمل کے ساتھ منسلک ہوجائیں تو وہ تقدیر بدل دیتے ہیں اور اگر صرف خواہش بن کر رہ جائیں تو حسرت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
اس لیے انسان کو خواب دیکھنے چاہییں مگر ایسے خواب جو اس کی صلاحیت، کردار اور محنت کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ یہی خواب جینے کی خواہش کو بڑھاتے ہیں، شخصیت کو نکھارتے ہیں اور انسان کو ہر مشکل کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ یہ امر ناقابلِ فراموش ہے کہ زندگی خوابوں سے نہیں چلتی، لیکن خوابوں کے بغیر زندگی مکمل بھی نہیں ہوتی۔

محسن خالد محسن

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا