نشے میں ہم ہیں مگر

نشے میں ہم ہیں مگر لڑکھڑا رہے ہیں آپ
ہمیں تماشہ ء محفل بنا رہے ہیں آپ

ہم اہلِ درد ہیں، عادی نہیں شکایت کے
ہمارے ضبط کو کیوں آزما رہے ہیں آپ

وہ ایک نام جو لکھا ہے حرفِ جاں کی طرح
اُسے بھی دل سے ہمارے مٹا رہے ہیں آپ

یہ التفاتِ گراں ہے کہ بے رُخی کا عذاب
سِمٹ سِمٹ کے محبت جتا رہے ہیں آپ

یہ بزمِ ناز ہے یا کارگاہِ رُسوائی
بُلا کے ہم کو کہیں اور جا رہے ہیں آپ

ہم اپنی خاکِ تمنا سمیٹ لائے تھے
ہزار شکر کہ گنگا بہا رہے ہیں آپ

شاہ دل شمسؔ

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا