یہ مرے گھر کے تین چار درخت

یہ مرے گھر کے تین چار درخت
ہیں دساور کے تین چار درخت

پھر ہوا شاخ شاخ سے لپٹی
آشنا کر کے تین چار درخت

جیسے کاغذ کی ایک دو کلیاں
جیسے پتھر کے تین چار درخت

دشت درپیش ہے سو چلتا ہوں
آنکھ میں بھر کے تین چار درخت

شاہ نے باغ میں اگائے ہیں
سنگ مرمر کے تین چار درخت

دشت دل اس قدر پھلا پھولا
دیکھے مر مر کے تین چار درخت

آخری وقت بس ہوائیں تھیں
اور صنوبر کے تین چار درخت

اکرام عارفی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے