شب کہ حیران کر گئے مرے اونٹ

شب کہ حیران کر گئے مرے اونٹ
صبح صحرا سے بھر گئے مرے اونٹ

ریت مہکی تو گنگنانے لگے
چلتے چلتے ٹھہر گئے مرے اونٹ

جبل طارق پہ دیکھ کر گھوڑے
پانیوں میں اتر گئے مرے اونٹ

سجنے والا تھا کمبھ کا میلہ
آئنہ دیکھ کر گئے مرے اونٹ

خشک ہونٹوں سے معذرت کر لی
دل کے صحرا میں مر گئے مرے اونٹ

ریت کے اس قدر شناور تھے
نخل دیکھے تو ڈر گئے مرے اونٹ

اور بھی راستے تھے گھر کی طرف
ریت پر چل کے گھر گئے مرے اونٹ

ایک بھی سیدھی کل نہیں اکرامؔ
اپنے اجداد پر گئے مرے اونٹ

اکرام عارفی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل