شہرِ جاں میں قیام ہے دل کا

شہرِ جاں میں قیام ہے دل کا
یہ علاقہ تمام ہے دل کا

دل کی دھڑکن سے سرسری نہ گزر
غور سے سُن کلام ہے دل کا

دبدبہ کیسا سلطنت کیسی
بادشہ تک غلام ہے دل کا

کاشف حسین غائر

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا