کیا کہیں اَور دل کے بارے میں

کیا کہیں اَور دل کے بارے میں
ہم ملازم ہیں اِس ادارے میں

اک نظر میرے دیکھ لینے سے
کیا کمی آ گئی نظارے میں

بس کہ خود پر یقین ہے اپنا
کیا کہیں اور خدا کے بارے میں

روشنی منتقل ہوئی کیسے
اِس ستارے سے اُس ستارے میں

کیا حقیقت ہے کارِ دُنیا کی
کیا منافع ہے اِس خسارے میں

کاشف حسین غائر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے