لہک رہی ہے کسی گُل کی باس گلیوں میں

لہک رہی ہے کسی گُل کی باس گلیوں میں
بھٹک رہا ہے کوئی آس پاس گلیوں میں

کنارِ شام یہ میلہ سا خوش لباسی کا
دکھائی دیتا ہے اِن بے لباس گلیوں میں

ہَوا گئی ہے یہ کس کو سلام کرتی ہوئی
چراغ کس نے جلائے اُداس گلیوں میں

تمام شہر میں جو گونجتی تھی وہ آواز
سنائی دیتی ہے اب خاص خاص گلیوں میں

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا