پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب

پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب
زندگی کے ہیں استعارے سب

یاد آیا بہت دلِ ناکام
کام جب ہو چکے ہمارے سب

ہاتھ وہ لہر پھر نہیں آئی
ہاتھ ملتے رہے کنارے سب

میری چپ سے ملی زبان انھیں
ورنہ خاموش تھے نظارے سب

میر و سودا و آتش و غالب
ہیں اِسی زندگی کے مارے سب

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا