نیند کرتے ہیں مر نہیں جاتے

نیند کرتے ہیں مر نہیں جاتے
خواب جب تک بکھر نہیں جاتے

وہ گلی ہی اُجڑ گئی ورنہ
راستے در بہ در نہیں جاتے

یا انھیں راستہ نہیں معلوم
یا ستارے اُدھر نہیں جاتے

حادثے تو گزرتے رہتے ہیں
چلنے والے ٹھہر نہیں جاتے

جانے وہ کیوں اِدھر نہیں آتا
ہم تو کچھ سوچ کر نہیں جاتے

رات بھی پوچھتی نہیں ہم سے
ہم بھی گھر رات بھر نہیں جاتے

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا