دل پہ دار و مدار ہے اپنا

دل پہ دار و مدار ہے اپنا
ویسے ہر شخص یار ہے اپنا

خاکداں جیسے پاؤں کی زنجیر
آسماں پہرے دار ہے اپنا

کوئی آئے تو کچھ خبر لائے
آج تک انتظار ہے اپنا

کس کو معلوم ہے یہ بے خبری
کس خبر سے فرار ہے اپنا

لمحہ لمحہ وصول کرتے ہیں
زندگی پر اُدھار ہے اپنا

لوگ کچھ بھی کہیں مگر غائر
آدمی کا وقار ہے اپنا

کاشف حسین غائر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان