دل لگی یاد آئے گی دل کی لگی یاد آئے گی
جو بچھڑنے کا بنی باعث کمی یاد آئے گی
ہر کوئی پھر اپنی دنیا میں مگن ہو جائے گا
چھوڑ جاؤ گے تو کچھ دن آپ کی یاد آئے گی
ایک تھا کوئے محبت من نگر کے بیچ میں
یاد آیا دل تو دل کی بے بسی یاد آئے گی
گر کوئی دن پیچھے جا کر دل ٹٹولو گے تو پھر
ہے یقیں مجھ کو عقیدت آپ ہی یاد آئے گی
تم ابھی مستی میں کھوئے ہو، مگر اک موڑ پر
یاد رکھنا میری یہ بے چارگی یاد آئے گی
اب کہیں جا کر جھکا ہے سر کسی مغرور کا
میں نہ کہتا تھا کبھی یہ عاجزی یاد آئے گی
شکر ہے اللہ کا حسرتؔ کہ ہم خوش حال ہیں
غم کی یلغاروں میں ہونٹوں کی ہنسی یاد آئے گی
رشید حسرتؔ
۰۲ اگست، ۲۰۲۶