دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی

دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی
اِس طرف تو مری نظر ہی نہ تھی

جھلملاتے رہے ستارے بھی
شب گزاری چراغ پر ہی نہ تھی

اور یہ اُس گلی میں جا کے کھُلا
وہ گلی میری منتظر ہی نہ تھی

زندگی بھر رہی شریکِ سخن
رہ گزر صرف رہ گزر ہی نہ تھی

اپنی آب و ہَوا میں زندہ تھے
موسموں کی ہمیں خبر ہی نہ تھی

کشتیِ دل رواں دواں غائر
صرف موجِ خیال پر ہی نہ تھی

کاشف حسین غائر

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے