مٹا کے نقش سبھی دل سے

مٹا کے نقش سبھی دل سے نقش پا کی طرح
گزر گیا ہے کوئی چھیڑ کے ہوا کی طرح

وہ پہلی پہلی محبت کے دن ہیں آنکھوں میں
پھر آج کل کوئی برہم ہے ابتداء کی طرح

نہیں گریز مجھے آزمائیشوں سے تیری
مگر دراز نا کر سلسلے سزا کی طرح

ہزاروں دوست ملیں گے مگر زمانے میں
کہاں وہ پیکر ایثار اس خفا کی طرح

میں اپنے اشک ندامت سے باوضو ہو کر
اسی سے مانگ رہی ہوں اسے دعا کی طرح

غنیم شہر کو مایوسیوں نے گھیرا ہے
کوئی تو آس بندھاو میری خدا کی طرح

ثوبیہ نورین نیازی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے