ہاتھ اٹھا اور یہ دعا کر دے

ہاتھ اٹھا اور یہ دعا کر دے
رب مجھے خود سے آشنا کر دے

آگے تقدیر میں جو ہو سو ہو
تو فقط وعدہ وفا کر دے

اب جو پاؤں وہ تیرے نام کا ہو
چاہے تو درد ہی عطا کر دے

مجھ پہ تعزیر عشق لگتی ہے
قید کر یا مجھے رہا کر دے

وہ باضد ہے اگر جدائی پہ
مسکراتے ہوئے جدا کر دے

تو نےنورین وصل سوچا تھا
وہ جو چاہے تو کچھ نیا کر دے

ثوبیہ نورین نیازی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی