درد دل کی دوا نہیں کرتے

درد دل کی دوا نہیں کرتے
جانے والے رکا نہیں کرتے

کچھ تو کرتے ادب محبت کا
نہ سہی گر وفا نہیں کرتے

جس کا ہونا ناممکنات میں ہو
ایسا وعدہ کیا نہیں کرتے

ہم خطا کار عشق عہد وفا
کچھ بھی اس کے سوا نہیں کرتے

سامنے ہو یا ہو تصور میں
خود کو اس سے جدا نہیں کرتے

خوش ہیں نورین جیسے وہ رکھے
غم کو تن کی ردا نہیں کرتے

ثوبیہ نورین نیازی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی