باعثِ اضطراب دیکھتے ہیں

باعثِ اضطراب دیکھتے ہیں
ہم اسے بےحساب دیکھتے ہیں

لوگ چہروں کو دیکھتے ہیں یہاں
ہم کہ دل کی کتاب دیکھتے ہیں

آنکھ لگتی نہیں شب ہجراں
اور ہم تیرے خواب دیکھتے ہیں

پھول سارے ہی پھول ہوتے ہیں
ہم مگر اک گلاب دیکھتے ہیں

عجز اول ہو سادگی آخر
ہم کہاں آب وتاب دیکھتے ہیں

عشق والے گھڑے پہ تیرتے ہیں
کب وہ بپھرا چناب دیکھتے ہیں

کس کی نورین آنکھ بینا ہے
آج کر کے نقاب دیکھتے ہیں

ثوبیہ نورین نیازی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان