کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے

کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے
کہ دل کی بات دل میں رہ گئی ہے

تجھے ہر پل میرا دل ڈھونڈتا ہے
میرے اندر یہ کیسی تشنگی یے

تو بولے، مسکرائے دیکھ لے تو
تبھی لگتا ہے مجھ میں زندگی یے

میں آنکھیں بند کر کے سو رہی ہوں
تیری تصویر ان میں جاگتی ہے

میرے اندر عجب اک شور سا ہے
مرے باہر اگرچہ خامشی یے

تعلق تو تمھیں رکھنا پڑے گا
وہ چاہے دوستی یا دشمنی ہے

مری آنکھوں میں یہ جو روشنی ہے
تری آنکھوں سے ہو کر آرہی ہے

مرے ہاتھوں میں تیرا ہاتھ ہو تو
بھری دنیا میں کس شے کی کمی ہے

ثوبیہ خان نیازی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا