گری ہے برق دل کے آشیاں پر

گری ہے برق دل کے آشیاں پر
بھروسہ کر لیا تھا رازداں پر

اسے معلوم کیا یہ عشق کیا یے
یہ دل آیا بھی تو نامہرباں پر

جسے برسوں سے سننا چاہتی ہوں
وہ بات آتی نہیں اس کی زباں پر

بہت ویران یے چاہت کی بستی
وفا ڈھونڈوں کہاں اب کس دکاں پر

ملی نور اس کو کل عالم کی دولت
کیا ہے جس نے تکیہ لفظ ماں پر

ثوبیہ نیازی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان