کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے

کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے
ہمیں جو ملے وہ گرانے ملے

ہر اک سمت پھیلی ہے خوشبو تیری
ہر اک سمت تیرے دیوانے ملے

نئی رت میں بدلا تو سب کچھ مگر
وہی درد ہم کو پرانے ملے

کبھی ہجر کی ہم نے کھولی کتاب
تو یادوں کے کتنے خزانے ملے

نہ بھایا نظر میں کوئی بھی میری
ازل سے تمھارے ٹھکانے ملے

پرندے جو طوفاں کی زد میں رہے
انہیں پھر کہاں آشیانے ملے

اداسی نے پھر دیکھ لی اپنی راہ
تیری یاد کے پھر بہانے ملے

نہیں کوئی چاہت نہ اپنائیت
خدایا یہ کیسے زمانے ملے

ثوبیہ خان نیازی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے