خوشی سے دل بھی نہال ہوتا

خوشی سے دل بھی نہال ہوتا
اگر تعلق بحال ہوتا

بچھڑ کے مرنا تو عام شے ہے
بچھڑ کے جینا کمال ہوتا

ترے اشارے سے عشق میرا
ہنسی خوشی پائمال ہوتا

نہ تیرے لفظوں کے تیر لگتے
نہ میرا لہجہ نڈھال ہوتا

بس اپنے بارے جو سوچتا ہے
اسے مرا بھی خیال ہوتا

مرے مقدر کے روز و شب میں
کوئی ملن کا بھی سال ہوتا

وہ لوٹ آتا تو کیوں سمیرا
مری وفا پر سوال ہوتا

سمیرا ساجد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان