ہم پر بھی محبت نے عجب دان کیا ہے

ہم پر بھی محبت نے عجب دان کیا ہے
ہم نے تھا جسے چاہا وہ ہم کو نہ ملا ہے

بستا ہے جہاں پر تری یادوں کا جزیرہ
کھویا ہے جو تو نے وہ مرے دل کا پتہ ہے

آباد رہے تیرے دلِ شاد کی دنیا
اجڑے ہوئے گلشن سے یہ بلبل کی دعا ہے

حالات کی گردش میں مقید تھا جو لمحہ
صد شکر کہ اس بار مجھی کو وہ ملا ہے

سمٹے ہوئے لہجے میں جو سہمی سی دعا تھی
اب عرش کو پہنچے گی مرا ہاتھ اٹھا ہے

پلتا ہی رہا دل میں جو اک روگ مسلسل
اس کو نہ منا پائی میں جو مجھ سے خفا ہے

ٹل جائے مصیبت جو پڑھوں اسمِ محمد
در ان کی ہی رحمت کا جو ہر گام کھلا ہے

ادراکِ اطاعت ہوا جس وقت سمیرا
بخشش کے لیے سر اسی چوکھٹ پہ جھکا ہے

سمیرا ساجد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا