صبر کا قصہ سنایا جائے

صبر کا قصہ سنایا جائے
یا چراغوں کو بجھایا جائے

سوکھتی بیل کی ویرانی پر
اک نیا رنگ چڑھایا جائے

دھوپ میں جلتے ہوئے لوگوں کو
سبز پیڑوں کا بتایا جائے

جسم سے لپٹی ہوئی خواہش کا
کب تلک بوجھ اٹھایا جائے

نیند سے لِتھڑی ہوئی آنکھوں کو
کس لیے خواب دکھایا جائے

پارساؤں سے بھری دنیا میں
آئنہ کس کو دکھایا جائے

کیا ضروری ہے سمیرا شب بھر
بے سبب دل کو جلایا جائے

سمیرا ساجد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی