چراغِ وصل ابھی تک جلا نہیں پائی

چراغِ وصل ابھی تک جلا نہیں پائی
ہوائے ہجر سے دامن چھڑا نہیں پائی

بچھڑ کے مجھ سے وہ مجھکو بھلا چکا لیکن
میں کیاکروں اسے اب تک بھلا نہیں پائی

یہ کیساعیب تھاتعبیر کے بھروسے کا
پرائے خواب سےآنکھیں لڑا نہیں پائی

میں سرد لہجے کو چپ چاپ سہہ کے لوٹ آئی
غبار دل کا اسے میں سنا نہیں پائی

دکھا رہا تھامجھے زخم جو ملے تھے اسے
میں اپنے زخم اسے پر دکھا نہیں پائی

سمیرا پیاس کو دفنا کے لوٹ آئی ہوں
کنویں کی سمت میں رستہ بنا نہی پائی

 

سمیرا ساجد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی