میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی
ٹوٹے ہوئے دل کی مرمت نہ کی

کچھ اس قدر زخموں کی عادت پڑ گئی
کہ اب انہیں چھیڑنے والوں کی مذمت نہ کی

جہاں سے ایک بار جواب نہ ملا
وہاں دوبارہ گزارش کی زحمت نہ کی

خود کفیل رہا اور عزت سے رہا، رافی
غرض کے عوض کسی کی خدمت نہ کی

حسنین رافی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر