حُسن کو حسن نظر کہتے ہیں لوگ

حُسن کو حسن نظر کہتے ہیں لوگ
شام کو عکسِ سَحر کہتے ہیں لوگ

آئینے کی آبرو جاتی رہی
بے ہنر کو با ہنر کہتے ہیں لوگ

سچ تو یہ ہے رازِ فتح زندگی
زندگی کو ہار کر کہتے ہیں لوگ

لی ہے کروٹ آدمی کی سوچ نے
اب قفس کو اپنا گھر کہتے ہیں لوگ

جس کا دنیا میں نہیں کچھ اعتبار
اُس کو بھی ابَ مُعتبر کہتے ہیں لوگ

لفظ کی صورت بدل کر رہ گئی
عیب کو بھی اب ہنر کہتے ہیں لوگ

روشنی جن سے ملے دل کو ولیؔ
ایسے شعروں کو گُہر کہتے ہیں لوگ

 

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی