اِک دن نیزے پر ہوتا ہے

اِک دن نیزے پر ہوتا ہے
وہ سر جو خود سر ہوتا ہے

چاہے جیسا بھی ہو لیکن
گھر تو آخر گھر ہوتا ہے

پھولوں والے گھر میں اکثر
کانٹوں کا بستر ہوتا ہے

دیکھ کے تم کو میں نے جانا
شیشہ بھی پتھّر ہوتا ہے

لفظوں کی جب جنگ چھڑی ہو
چپ رہنا بہتر ہوتا ہے

یہ بھی ہے ولیؔ دستورِ مشیت
منظر پس منظر ہوتا ہے

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل