جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے

جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے

وہ واقبِ سکوں ہے مسرت شناس ہے

اے مائلِ بہار کہی یہ نہ بھولنا

ہر گلشنِ آمید کا انجام یاس ھے

اٹھتی نہی ہے جانِب اربابِ اقتدار

شاید میری نگاہ زمانہ شناس ہے

دامن پہ اشکِ غم ہیں گریباں لہو سے تر

اے صبحِ نو گلوں کا یہ کیسا لباس ہے

شاید اسی کا نام ہیں مجبوری حیات

ٹوٹی ہوئی ہے آس مگر پہر بھی آس ہے

ٹکرا کے جس سے کتنے ہی طوفان پلٹ گئے

اے طلعت میری روح میں اک ایسی پیاس ہیں

طلعت سروہا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے