جو سر پہ میرے دوپٹہ دکھائی دیتا ہے

جو سر پہ میرے دوپٹہ دکھائی دیتا ہے

نشان میری حیا کا دکھائی دیتا ہے

وہ ایک شخص جو مجھ کو لبھا رہا ہے بہت

کچھ اور اسکا ارادہ دکھائی دیتا ہے

مرے مزاج سے ملتا نہیں مزاج تیرا

اگرچہ سب کو تو میرا دیکھائی دیتا ہے

جو مجھکو شہر میں بدنام کرنے والا تھا

تمام شہر میں رسوا دیکھائی دیتا ہے

فریب اتنے دئیے مجھ کو زندگی نے طلعت

حقیقتوں میں ڑھل بھی سپنا دیکھائی دیتا ہے

طلعت سروہا

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا