میکدہ بھی ہے غم کا گھر بابا

میکدہ بھی ہے غم کا گھر بابا

اس لیے لگ رہا ہے ڈر بابا

میرے خوابوں کاجو محل تھا کبھی

ہو گیا وہ تو اب کھنڈر بابا

ایک صیاد کی طرح غم نے

نوچ ڈالے ہیں بال و پر بابا

لوگ کہتے ہے زندگی جس کو

کتنی مشکل ہے وہ ڈگر بابا

پوچھتے پھر رے ہیں دیوانے

ہے درِ میکدہ کدھر بابا

کوئ رہبر نہ ہمسفر کوئی

کیسے گزرے گا یہ سفر بابا

طلعت سروہا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی