بےسبب ہوتی نہیں افسردگی

بےسبب ہوتی نہیں افسردگی
دل میں پَلتی ہے کہیں افسردگی

مسکراہٹ کا لبادہ اوڑھ کر
ہو گئی گوشہ نشیں افسردگی

در کھلا رکھا تھا خوشیوں کے لئے
بن گئی دل کی مکیں افسردگی

آسمانوں پر لکھی جاتی ہے تو
پیش کرتی ہے زمیں افسردگی

گر لپٹ جائے کسی کی ذات سے
تو جدا ہوتی نہیں افسردگی

خاکِ پائے یار کو چھونے کے بعد
سہہ گئی میری جبیں افسردگی

لاکھ ڈھالوں مَیں اِسے اشعار میں
ہو نہیں سکتی حسِیں افسردگی

میری نتھلی میں چمکنے کے لئے
بَس گئی زیرِ نگیں افسردگی

منزّہ سیّد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا