ذرا یہ زلف جو کھولے تو تیرے ساتھ چلوں

ذرا یہ زلف جو کھولے تو تیرے ساتھ چلوں

ایک غزل اور جو بولے تو تیرے ساتھ چلوں

مرمریں جسم ہے پھولوں سے اُبھرتی خوشبو

میری رگ رگ میں سمولے تو کل تیرے ساتھ چلوں

تیرے ہونٹوں نے بکھیرے ہیں تبسم کتنے

میری آنکھوں سے بھی رولے تو تیرے ساتھ چلو

راستے پتھر کے میرے پاؤں ہوئے ہیں زخمی

ختم ہو جائں یہ پھولے تو تیرے ساتھ چلو

رنگ چہرے کا تو دلکش ہے مگر دامن کو

میرے اشکوں میں ڑبو لے تو تیرے ساتھ چلو

طلعت سروہا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے