لہو لہو سا منظر دکھائی ریتا ہے

لہو لہو سا منظر دکھائی ریتا ہے

ہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے

ہماری تشنہ لبی کا نہ پوچھئیے عالم

ہمیں تو قطرہ بھی سمندر دکھائی دیتا ہے

وہی جو میرا حقیقت میں بن نہ سکا کبھی

وہ مجھ کو خواب میں اکثر دکھائی دیتا ہے

وہیں ملے گی محبت وہی ملے گا خلوص

وہی جو دور سے چھپرً دکھائی دیتا ہے

جسے تو جشنِ چراغاں سمجھ رہی ہے طلعت

کسی کا جلتا ہوا گھر دکھائی دیتا ہے

طلعت سروہا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی