ایک ہی رہتا ہے الم صاحب

ایک ہی رہتا ہے الم صاحب
گر نہ جائے کہیں علم صاحب

جو بھی چاہیں کریں رقم صاحب
آپ کے ہاتھ ہے قلم صاحب

تیرے قدموں کی چاپ جیسا ہے
دل کی دھڑکن کا زیر و بم صاحب

آئو جلدی سے دیکھ لو دنیا
ٹوٹ جائے نہ جام جم صاحب

آنکھوں آنکھوں میں بات بڑھتی ہے
دل اٹھاتا ہے سارے غم صاحب

آنکھیں سب صاف صاف کہتی ہیں
کس کی مٹی ہے کتنی نم صاحب

ہجر کی آنکھ میں بھی آنسو ہیں
ایسے بچھڑے ہیں اب کے ہم صاحب

محمد رضا نقشبندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے