خشک صحرا ، تیرے غم کا کیا کریں

خشک صحرا ، تیرے غم کا کیا کریں
آنکھ کے تھوڑے سے نم کا کیا کریں

ہجر کی دیمک بدن کو کھا گئی
کہہ رہے ہیں سوکھے چم کا کیا کریں

آپ کی آنکھوں سے فرصت ہی نہیں
ایسے میں اس جامِ جم کا کیا کریں

جاں کنی میں آپ کی آمد ہوئی
مڑتے ہاتھوں ، ٹوٹے دم کا کیا کریں

جان دینے کی تمنا ہے رضا
دل کا سودا اس سے کم کا کیا کریں

محمد رضا نقشبندی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان