ایک صورت ہو ، مسکراتے ہیں

ایک صورت ہو ، مسکراتے ہیں
جب ضرورت ہو ، مسکراتے ہیں

ہاتھ میں ہاتھ کندھے سے کندھا
یہ سہولت ہو ، مسکراتے ہیں

انکی بستی میں رسم ہے شاید
جب اجازت ہو ، مسکراتے ہیں

لاکھ طوفان ہوں یہی دیکھا
جن کی عادت ہو ،مسکراتے ہیں

چاند تاروں کی ایک مسند ہو
ایسی ساعت ہو ، مسکراتے ہیں

محمد رضا نقشبندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے