لائے کبھی قریب وہ دیوار کھینچ کر

لائے کبھی قریب وہ دیوار کھینچ کر
لے جاتا ہے جو دھوپ میں ہر بار کھینچ کر

آیا ہوں تیرے سامنے سر ہے جھکا ہوا
تو بھی کھڑا ، نیام سے تلوار کھینچ کر

ڈاکے ، شراب ، چوریاں ، الزام ، دھاندلی
بیٹھا ہوا ہوں شام کا اخبار کھینچ کر

اس کی نگاہِ ناز کی تاثیر دیکھیے
اس پار سے وہ لے گیا اس پار کھینچ کر

پیشِ نظر جمال ترا دم بدم رہے
لے آئی مجھ کو حسرتِ دیدار کھینچ کر

محمد رضا نقشبندی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان