دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں

دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں

اتنا ویراں تو مزاروں کا مقدر بھی نہیں

ڈوبتی جاتی ہیں مٹی میں بدن کی کشتیاں

دیکھنے میں یہ زمیں کوئی سمندر بھی نہیں

جتنے ہنگامے تھے سوکھی ٹہنیوں سے جھڑ گئے

پیڑ پر پھل بھی نہیں آنگن میں پتھر بھی نہیں

خشک ٹہنی پر پرندہ ہے کہ پتا ہے عدیمؔ

آشیانہ بھی نہیں جس کا کوئی پر بھی نہیں

جتنی پیاری ہیں مری دھرتی کو زنجیریں عدیمؔ

اتنا پیارا تو کسی دلہن کو زیور بھی نہیں

عدیم ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے