شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں

شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

میں آخری جنگ لڑ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

ہوائیں پیغام دے گئی ہیں کہ مجھ کو دریا بلا رہا ہے

میں بات ساری سمجھ گیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

نہ جانے کوفے کو کیا خبر ہو نہ جانے کس دشت میں بسر ہو

میں پھر مدینے سے جا رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

مجھے عزیزان من محبت کا کوئی بھی تجربہ نہیں ہے

میں اس سفر میں نیا نیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

مجھے کس سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابشؔ

میں عادتاً سب سے کہہ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

عباس تابش

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے