قہوہ خانے میں دھواں بن کےسمائےہوئے لوگ

قہوہ خانے میں دھواں بن کےسمائےہوئے لوگ
جانے کس دھن میں سلگتے ہیں بجھائےہوئےلوگ

تُو بھی چاہے تو نہ چھوڑیں گے حکومت دل کی
ہم ہیں مسند پہ ترے غم کو بٹھائے ہوئے لوگ

اپنا مقسوم ہے گلیوں کی ہوا ہو جانا
یار،ہم ہیں کسی محفل سےاٹھائےہوئے لوگ

نام تو نام مجھے شکل بھی اب یاد نہیں
ہائے وہ لوگ،وہ اعصاب پہ چھائے ہوئے لوگ

آنکھ نے بور اٹھایا ہے درختوں کی طرح
یاد آتے ہیں اِسی رت میں بُھلائے ہوئے لوگ

حاکمِ شہر کو معلوم ہوا ہے تابش
جمع ہوتے ہیں کہیں چند ستائے ہوئے لوگ

عباس تابش

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی