بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں

بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں
خود کو اندر سے کہیں ڈھایا ہوا لگتا ہوں

تم نہیں جانتے ہجرت کے تقاضے کیا ہیں
گھر کا مالک ہوں مگر آیا ہوا لگتا ہوں

اس نے اک بار ہی تحریر کیا ہے مجھ کو
دیکھنے والوں کو دہرایا ہوا لگتا ہوں

تیرے قدموں کی طرف سیدھی جبیں ہوتی ہے
جھک کے چلتے ہوئے اترایا ہوا لگتا ہوں

ہاں تو پھر مان کوئی ہاتھ میرے سر پر ہے
یا بتا اب تجھے گھبرایا ہوا لگتا ہوں

اثر ہوتا ہی نہیں اس سے زیادہ مجھ پر
چار چھ روز ہی سمجھایا ہوا لگتا ہوں

دانش نقوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے