جہان خواب مہرباں کی خیر ہو

جہان خواب مہرباں کی خیر ہو

مرے زمین و آسماں کی خیر ہو

ہوا کا رنگ ڈھنگ ہی کچھ اور ہے

دعا کرو کہ آشیاں کی خیر ہو

وہ چاہتا ہے اپنی اک سلامتی

میں چاہتا ہوں کارواں کی خیر ہو

جہاں ہے تیرگی وہاں ہو روشنی

جہاں ہے روشنی وہاں کی خیر ہو

یہ جذب و کیف یوں ہی مستقل رہیں

دعا ہے دل کے آستاں کی خیر ہو

شمشیر حیدر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے