وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے

وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے

خواب تعبیر میں ڈھلتا ہوا رہ جاتا ہے

تجھ سے ملنے بھی چلا آتا ہوں ملتا بھی نہیں

دل تو سینے میں مچلتا ہوا رہ جاتا ہے

ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرف

اور پھر تیر نکلتا ہوا رہ جاتا ہے

شمشیر حیدر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا