442
اس کی باتوں سے میں نے پرکھا تھا
وہ بھی میری طرح اکیلا تھا
چند جگنو تھے میری مٹھی میں
اور چاروں طرف اندھیرا تھا
پاؤں شل ہو گئے جہاں آ کر
قافلے کو وہیں سے چلنا تھا
وہ جو روتا ہے چاند راتوں میں
اس نے شاید کسی کو چاہا تھا
اپنے ہاتھوں میں لے کے زخمی ہاتھ
میرا ہر درد اس نے بانٹا تھا
دل کے اندر تھی خامشی لیکن
میرے کانوں میں شور برپا تھا
لوگ کہتے ہیں داستانوں میں
وقت گزرا ہوا ہی اچھا تھا
گرچہ شاعر نہیں تھا وہ پھر بھی
میر و غالب , فراز جیسا تھا
منزّہ سیّد
