خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباٹماٹر اور ڈاکٹر ۔ مماثلت و مخاصمت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

ٹماٹر اور ڈاکٹر ۔ مماثلت و مخاصمت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 6, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 6, 2022 0 تبصرے 78 مناظر
79

لفظی اعتبار سے ٹماٹر اور ڈاکٹر میں دو تہائی مماثلت پائی جاتی ہے۔ڈاکٹر اور ٹماٹرمیں’’ٹر‘‘دو حرفی متماثل حصہ ہے جس کے معنی ہماری مادری زبان کے مطابق’’ سفیدجھوٹ‘‘ کے ہوتے ہیں اول الذکر(ٹماٹر) کا مطلوبہ رنگ اور ثانی الذکر کاعلامتی رنگ ( ریڈ کراس )بھی ایک جیسا یعنی سرخ ہے ۔اس لحاظ سے یہاں پر’ ’ سفید جھوٹ ‘‘کو ہم ’’سرخ جھوٹ ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔اور اس سرخ جھوٹ کا واقعاً یہ دونوں (ڈاکٹر اور ٹماٹر) عملی نمونہ ہیں کیونکہ ٹماٹر کی طرح ڈاکٹرکے ظاہر و باطن میں بھی ایک واضع تضاد پایا جاتا ہے۔اوائلِ عمری میں سرخ میووں کا مزہ چکھنے کے بعد میرے کام و دہن نے سرخ رنگ کو مٹھاس کی علامت گردانا تھا لیکن جب پہلی مرتبہ پکے ہوے سرخ ٹماٹر کو میں نے سرخ رنگ سیب کی مانند چکھا تومٹھاس کا احساس کھٹائی میں پڑ گیا اور غالب کا شعرغیر شعوری طو ر میرے لا شعور میں میں گونجا
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا
غالب چونکہ ایک آفاقی شاعر تھے اس لئے وہ ستاروں کی دنیا سے استعارہ ڈھونڈ نکالنے پر مجبور تھے اگر وہ زمینی بلکہ’’ ذرعی‘‘ شا عر ہوتے تواسے مذکورہ شعر کہنے کے لئے خوامخواہ آسمانوں کی سیر کو نہ نکلنا پڑھتا وہ اس شعر کو یوں بھی کہہ سکتے تھے
ہیں’’ ٹماٹر‘‘ کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا
غالب کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ قدیم دور میں زندگی گزار کر چلے گئے اگر وہ ہمارے دور میں زندگی گزار رہے ہوتے تو ضرور ٹماٹر کا دوسرا متبادل اور موزوں لفظ اس کے لئے ’’ ڈاکٹر‘‘ ہی ہوتا ۔مجھے یقین ہے کہ اس سلسلے میں کسی بھی ایسے شخص کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا جس کا واسطہ پرائیویٹ پریکٹشنر سے پڑا ہو۔ را قم کاوا سطہ بھی ایک ایسے ہی ڈاکٹر سے پڑا جس نے مجھے چند ایک ٹسٹ کرانے کا مشورہ دیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ یہ سب کے سب ٹسٹ اس کی ایک منظور نظر میڈیکل لیبمیں ہی ہونے چاہئے اتنا ہی نہیں اس لیب کا محلِ وقوع ، اتہ پتہ اور گلی کوچوں کی ہیتِ ترکیبی کا نقشہ کچھ اس طرح سے کھینچا گویا کو ئی ٹورسٹ گائیڈکسی فرنگی سیاح کو اپنے جال میں پھنسانے کی ٹوہ میں ہو ۔اس وقت مجھے یہ احساس ہو ا کہ یہ شخص بظاہر تو ڈاکٹر ہے لیکن بباطن ایک پیدائشی ٹورسٹ گائیڈ ہی ہے ۔ اس دو رخے پن کا مظاہرہ ڈاکٹر حضرات ہسپتال اور پرائیویٹ کلینک (میں بھی کیا کرتے ہیں ۔ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کابیماروں کے ساتھ رویہ دیکھ کر کسی کنجوس سرمایہ دار کی تصویر آنکھوں میں پھرتی ہے جس کے سا منے کو ئی گدا گر ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہو مگر یہی ڈاکٹر پرائیویٹ کلینک میں علاج کرنے لگے تو اس کی کایا پلٹ جاتی ہے نہ وہ زبان کی تندی اور تلخی ہوتی ہے اور نہ ہی رویہ میں روکھا پن جو گورنمنٹ ہسپتالوں میں ایک ڈاکٹر کا خاصا ہوا کرتا ہے ۔یہاں ان کا روپ اور رنگ سو فی صد مختلف ہوا کرتا ہے ۔بد اخلاقی یکا یک اخلاق کا روپ دھارن کرتی ہے ۔چہرے پر ہیبت ناک غصے کے آثار بناوٹی مسکراہٹ میں کچھ یوں بدل جاتی ہے جیسے کوئی سنجیدہ مزاج فلمی اداکار از راہ مجبوری مزاحیہ کردار ادا کرنے کیلئے وقتی طور کیمرے کے سامنے آیا ہو۔ ہسپتال میں بیمار اگر یہ کہے کہ اسے کیا کھانا چاہئے تو دو ٹوک جواب یہی ملے گا ، زہر ! اس کے برعکس یہی سوال پرائیویٹ کلینک میں ہو جائے تو جواب ہوگا سوائے ٹماٹر جوکچھ من میں آئے!
ایک بات تو ہماری فہم سے بالا ہے کہ اس قدر مماثلت کے باوجود بھی نہ جانے ڈاکٹر صاحبان کو بیچارے ٹماٹر کے ساتھ کیا خدا لگی بیر ہے کہ وہ اسے بدنام کرنے پر ہمہ وقت مستعد نظر آتے ہیں ۔اس حوالے سے ٹماٹر کو بد سے برا بدنام والا معاملہ در پیش ہے ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ قسم بہ قسم بیماروں کے لئے ایک اکیلا ٹماٹر ہی مضر ہو ۔ کیا قدرت نے کسی بھی بیماری کے لئے اس ٹما ٹر میں شفا ء نہیں رکھی ہے ؟آپ خدا نا خواستہ کسی بھی بیماری میں مبتلاہوں اور کسی بھی ڈاکٹر کے پاس چلے جائے پرہیز کے نام پر سب سے پہلی کاری ضرب اسی ٹماٹر پر لگتی ہے ۔ اس وقت انسان کو حیران ہونے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہتا جب ایک ڈاکٹر دو متضاد بیماریوں کے سلسلے میں بیمار کو اسی ایک چیز یعنی ٹماٹر سے بچنے کا مشورہ دیتا ہے۔مثلاً دست کیلئے اگر ٹماٹر موافق نہیں تو قبض کیلئے موافق ہونا چاہئے لیکن ان جدید اطباء کی منطق ہی نرالی ہیں وہ دونوں مریضوں کیلئے اس ایک اکیلی شئے سے بچنے کی تاکید کرتے تھکتے نہیں بعض اوقات بیمار کو اس کے سوا سب کچھ کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے عجیب اتفاق یہ ہے کہ اس معاملے میں بانت بانت کی بولی بولنے والے ڈاکٹر متفق نظر آتے ہیں ہڈیوں کا جوڑ توڑ والا ڈاکٹر ہو یا ماہر امراضِ معادہ ، گردوں کے امراض کا ماہر ہو یا دردِ دل کا معالج،یونانی ہو یا غیر یونانی ، سرکاری ہو یا غیر سرکاری ، انگریزی ہو یا دیسی ، تورانی ،افغانی ،اعجمی ہو یا عربی سب ہاتھ دھو کر اسی ٹماٹر کے ہی پیچھے پڑے ہیں اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس ٹماٹر نے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ طینت کو دنیا کے سامنے فاش کیا ہے اگر یہ ٹماٹر نہ ہوتا توان کی حقیقت کو فاش کرنے کے لئے کس شئے کی مثال پیش کی جاسکتی تھی بغیرٹماٹر ڈاکٹر دنیا میں بلا تشبیہ ہوتا۔ اور بلا تشبیہ شئے کے متعلق اظہار خیال کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔
بہر کیف ہر دو ازلی حریف (ڈاکٹر اور ٹماٹر) اپنے تمام دو رخے پن کے ساتھ ہماری ناگزیر اور نا خوش گوار مجبوری بن چکے ہیں ۔ جب تک منہ میں دانت اور پیٹ میں آنت ہے ان سے جان چھڑا نا ممکن ہی نہیں ۔جیتے جی ڈاکٹروں سے کنارہ کش رہنے کی ہماری تمنا پوری نہیں ہو پائے گی۔اپنی آخری سانس تک اس نا گزیر بلا سے ہمارا کسی نہ کسی بہانے سے واسطہ پڑھ ہی جائے گااور ان سے واسطہ پڑنے کامطلب ہے اپنی تمام رغبتوں کے باوجود ٹماٹر سے بچے رہنے کی تلقین۔مگر جس طرح ڈاکٹر سے بچنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اسی طرح ٹماٹر کواپنے کام و دہن سے نکال باہر کرنا ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔یہاں بھی انسان مجبور محض دکھائی دیتا ہے ۔اور مجبوری کا خاتمہ صرف اور صرف ایک ہی چیز سے ممکن ہے اور وہ ہے موت!مگر یہ ڈاکٹر صاحبان ہی ہیں جو ہمارے دل میں موت سے بچنے کی بچگانہ امید کو برقراررکھتے ہیں اور یہ ٹماٹر ہی ہے جو مر مر کے جئے جانے کے مزے ہمیں آشنا کرتا ہے رشید احمد صدیقی مرحوم کا بھلا ہو انہوں نے پتے کی بات کہی تھی کہ ’’ڈاکٹر نہ ہو تو موت آسان اور زندگی دلچسپ بن جائے‘‘میری اتنی اوقات کہاں کہ ڈاکٹر صاحبان کے متعلق لب کشائی کروں البتہ بے زبان ٹماٹر کے متعلق یہ ضرور کہوں گا کہ ٹماٹر نہ ہوں تو زندگی کا مزہ کرکرا ہو جائے۔

فدا حسین بالہامی
سری نگر۔ کشمیر

 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گلی کوچوں میں سنّاٹا ہے یا رب خیر کرنا
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»
  • امریکی ثقافت اور روڈیو
  • ارادہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
گاؤں کے لوگ
پچھلی پوسٹ
قرآن کا بیانیہ

متعلقہ پوسٹس

گاؤں کی رانی​

دسمبر 12, 2019

جس طرح سوچتا تھا میں

جون 27, 2025

دوست ہو گئے دشمن

جولائی 31, 2022

بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل

ستمبر 2, 2025

عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب

اکتوبر 12, 2025

میں تم سے محبت کرتی ہوں

جنوری 7, 2024

دوست کے لیے ایک دُعا

نومبر 7, 2020

اللہ رب العزت کی زیارت

مئی 14, 2024

اداسی

نومبر 14, 2021

تمنا وصل کی کس رات

نومبر 1, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کعبۂ دل میں محبت

فروری 25, 2025

عمر بھر درد کا جو

مئی 31, 2024

سمندر کی گہرائیوں میں

دسمبر 23, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں