ضروری تھا مگر

ضروری تھا مگر کھولے نہ جاتے
گھٹن تھی پھر بھی در کھولے نہ جاتے

اگر پرواز پر پابندیاں تھیں
ہمارے بال و پر کھولے نہ جاتے

تمھارے میکدوں کی خیر لیکن
ہمارے نام پر کھولے نہ جاتے

مجھے ویرانگی اچھی تھی شاہا
درندے شہر پر کھولے نہ جاتے

فرح گوندل

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں