مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائے

مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائے
انا سپرد کرے کاسۂ گدائی بھی دے

وہ ٹوٹتی ہوئی دنیا کا شور ہے یا رب
کہ معجزہ ہے جو ایسے میں کچھ سنائی بھی دے

بعید کیا ہے جسے ہم خزاں سمجھتے ہیں
بہار بن کے خرابوں کو دل ربائی بھی دے

سر صلیب خموشی مرا طریق نہیں
زبان دی ہے تو احساس نے نوائی بھی دے

میں ایسی سر پھری دنیا کو کیا کہوں قیصرؔ
کہ سنگ راہ بنے طعن نارسائی بھی دے

قیصرالجعفری

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا