ایسے جیسے اک مدت کے

ایسے جیسے اک مدت کے سوۓ جاگے ، غار سے نکلے
لفظ جواہر تھے جو میرے سینے کے انبار سے نکلے

بچپن میں ہم روز ندی کے پانی سے اٹکھیلیاں کرتے
شرط لگائی جاتی ،کون ہے پہلے جو اس پار سے نکلے

ہم اک عمر سے رستہ دیکھتے آۓ روز حوادث کا
کب نکلے اخبار صبح کا اور خبر اخبار سے نکلے

دروازے کی خواہش ہے کہ میں اس کا احسان اٹھاؤں
میری چاہت ھے کہ رستہ گنگ کھڑی دیوار سے نکلے

فرح گوندل

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا